آپ کا سلاماردو غزلیاتزبیر خیالیشعر و شاعری

حیات ایسے گزاری جارہی ہے

زبیر خیالی کی ایک اردو غزل

حیات ایسے گزاری جارہی ہے
کہ یہ بیکار ساری جا رہی ہے

مکانِ دل ہے گَرد آلود کتنا
مگر صورت سنواری جارہی ہے

اِرادے خودکشی کرنے لگے ہیں
تمنا دل میں ماری جارہی ہے

بڑا پرسوز عالم ہے وہاں کا
جہاں تک آہ و زاری جا رہی ہے

الہی’ عدل کی میزانِ برحق
زمیں پر کب اتاری جا رہی ہے

زمانہ معترف جس کا کبھی تھا
وہ رسمِ دوست داری جا رہی ہے

اِسی رستے پہ منزل ہے خیالی
جدھر اپنی سواری جا رہی ہے

زبیر خیالی

post bar salamurdu

زبیر خیالی

سینئر نائب صدر بزمِ دوستانِ ادب، سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button