- Advertisement -

تیرے در تک نہیں جانے پاتے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

تیرے در تک نہیں جانے پاتے
ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے

ہر قدم پر ہے نیا ہنگامہ
ہوش میں ہم نہیں آنے پاتے

جلوہ پردہ ہے تو پردہ جلوہ
کیا ترا بھید زمانے پاتے

تم عناں گیر جنوں ہو ورنہ
چور چور آئنہ خانے پاتے

لوگ غربت کا گلہ کرتے ہیں
ہم وطن سے نہیں جانے پاتے

درد ہوتا تو مسلسل ہوتا
دل کو ہم دل تو بنانے پاتے

غم اگر ساتھ نہ دیتا باقیؔ
دشت بھی ہم نہ بسانے پاتے

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل