- Advertisement -

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا

پروین شاکر کی ایک اردو غزل

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا

فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس
تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں
کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا

وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے
اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
پروین شاکر کی ایک اردو غزل