آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

قفس میں تھا سو اجازت کہاں ملی تھی مجھے

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

قفس میں تھا سو اجازت کہاں ملی تھی مجھے
پرندگی کی سہولت کہاں ملی تھی مجھے

بدن تو مل ہی گیا تھا تمہارے ہجر کے بعد
مگر بدن کی ضرورت کہاں ملی تھی مجھے

میں گفتگو سے گریزاں نہیں تھا پہلے پہل
وہ یوں کہ پہلے وضاحت کہاں ملی تھی مجھے

میں زندگی کو ضرورت سمجھ کے جیتا تھا
کہ زندہ رہنے کی فرصت کہاں ملی تھی مجھے

نگاہ بھر کے بھی دیکھا شکستگاں کی طرف
وہ پہلے عشق سی حیرت کہاں ملی تھی مجھے

تمہارے دشت میں ہجرت زدہ ہیولے تھے
تمہارے دشت میں وحشت کہاں ملی تھی مجھے

میں اپنی چھاؤں سے خود مستفید ہو سکتا
میں پیڑ تھا سو یہ صورت کہاں ملی تھی مجھے

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button