- Advertisement -

قفس میں تھا سو اجازت کہاں ملی تھی مجھے

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

قفس میں تھا سو اجازت کہاں ملی تھی مجھے
پرندگی کی سہولت کہاں ملی تھی مجھے

بدن تو مل ہی گیا تھا تمہارے ہجر کے بعد
مگر بدن کی ضرورت کہاں ملی تھی مجھے

میں گفتگو سے گریزاں نہیں تھا پہلے پہل
وہ یوں کہ پہلے وضاحت کہاں ملی تھی مجھے

میں زندگی کو ضرورت سمجھ کے جیتا تھا
کہ زندہ رہنے کی فرصت کہاں ملی تھی مجھے

نگاہ بھر کے بھی دیکھا شکستگاں کی طرف
وہ پہلے عشق سی حیرت کہاں ملی تھی مجھے

تمہارے دشت میں ہجرت زدہ ہیولے تھے
تمہارے دشت میں وحشت کہاں ملی تھی مجھے

میں اپنی چھاؤں سے خود مستفید ہو سکتا
میں پیڑ تھا سو یہ صورت کہاں ملی تھی مجھے

ارشاد نیازی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
طارق اقبال حاویؔ کی ایک اردو نظم