اردو غزلیاتشعر و شاعریشکیل بدایونی

جب کبھی ہم ترے کوچے

شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں

لوحِ ادراک پہ کچھ اور اُبھر جاتے ہیں

حُسن سے لیجئے تنطیم دو عالم کا سبق

صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں

ہم نے پایا ہےمحبت کا خمارِ ابدی

کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اُتر جاتے ہیں

اتنے خائف ہیں مے و مل سے جنابِ واعظ

نام کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں

مے کدہ بند ، مقفل ہیں در دیر و حَرم

دیکھنا ہے کہ شکیل آج کدھر جاتے ہیں

 

شکیلؔ بدایونی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button