- Advertisement -

کیا کھویا کیا پایا کچھ بھی یاد نہیں

منزّہ سیّد کی ایک غزل

کیا کھویا کیا پایا کچھ بھی یاد نہیں
دامن میں کیا آیا کچھ بھی یاد نہیں

کس نے گلے لگایا کچھ بھی یاد نہیں
کس نے ہاتھ چھڑایا کچھ بھی یاد نہیں

جاتے وقت مجھے خوش رہنے کا کہہ کر
اُس نے کیا فرمایا کچھ بھی یاد نہیں

کِن گلیوں میں چلتے چلتے شام ہوئی
کس نے گھر پہنچایا کچھ بھی یاد نہیں

نگری نگری پھرنے والا بنجارہ
کیوں مجھ سے ٹکرایا کچھ بھی یاد نہیں

سب نے میری ذات پہ پتھر برسائے
اپنا کون پرایا کچھ بھی یاد نہیں

اندھیاروں میں جگنو بن کر آیا کون
کس نےدیپ جلایا کچھ بھی یاد نہیں

معمولی سی بات پہ مجھ کو چھوڑ گیا
کب وہ لَوٹ کے آیا کچھ بھی یاد نہیں

منزّہ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
منزّہ سیّد کی ایک غزل