اردو غزلیاتشعر و شاعریقابل اجمیری

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

قابل اجمیری کی اردو غزل

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

میں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

مجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو

مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے

ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن

تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

تمہارے جلووں کی روشنی میں نظر کی حیرانیاں مسلم

مگر کسی نے نظر کے بدلے جو دل آزمایا تو کیا کرو گے

اتر تو سکتے ہو یار لیکن مآل پر بھی نگاہ کر لو

خدا ناکردہ سکون ساحل نہ راس آیا تو کیا کرو گے

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک

مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو بگڑ کے قابلؔ سے جا رہے ہو

مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے

قابل اجمیری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button