اردو غزلیاتسعید خانشعر و شاعری

دشت پر آب ہے کئی دن سے

سعید خان کی اردو غزل

دشت پر آب ہے کئی دن سے
دل میں سیلاب ہے کئی دن سے

پھر سفینہ مری محبت کا
پیشِ گرداب ہے کئی دن سے

خواب آنکھوں میں تیرتے ہیں مگر
آنکھ بے خواب ہے کئی دن سے

میں بھی کم کم کسی سے ملتا ہوں
وہ بھی کم یاب ہے کئی دن سے

کس کے قدموں کی نرم آہٹ کو
راہ بے تاب ہے کئی دن سے

اک نیا عکس بامِ دل پہ سعید
رشکِ مہتاب ہے کئی دن سے

سعید خان

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button