اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر رضا شہزاد

آئنہ خانۂ گمان کو چھوڑ

قمر رضا شہزاد کی اردو غزل

آئنہ خانۂ گمان کو چھوڑ

تو مرے ذکر میرے دھیان کو چھوڑ

خلقت شہر جھوٹ بولتی ہے

خلقت شہر کے بیان کو چھوڑ

رنج مت کر الاؤ بجھنے کا

زخم در زخم داستان کو چھوڑ

اس زمیں پر گلاب وصل کھلا

بانجھ مٹی کے آسمان کو چھوڑ

شام ہونے سے پیشتر شہزادؔ

تو بھی اس جسم کے مکان کو چھوڑ

قمر رضا شہزاد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button