اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

سیر ہے تجھ سے مری جان، جدھر کو چلئے

اردو غزل از میر حسن

سیر ہے تجھ سے مری جان، جدھر کو چلئے
تو ہی گر ساتھ نہ ہووے تو کدھر کو چلئے

خواہ کعبہ ہو کہ بت خانہ غرض ہم سے سن
جس طرف دل کی طبیعت ہو، ادھر کو چلئے

زلف تک رخ سے نگہ جاوے نہ اک دن کے سوا
شام کو پہنچئے منزل جو سحر کو چلئے

جب میں چلتا ہوں ترے کوچہ سے کترا کے کبھی
دل مجھے پھیر کے کہتا ہے، ادھر کو چلئے

ان دنوں رات اسی فکر میں کٹتی ہے حسن
صبح کب ہووے کہ پھر یار کے گھر کو چلئے

میر حسن

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button