آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمنزہ سحر

ہم پاؤں پاؤں دشت میں

منزہ سحر کی ایک اردو غزل

ہم پاؤں پاؤں دشت میں یوں بے نوا چلے
جیسے جنوں کے ساتھ کوئی حوصلہ چلے۔

اے زندگی! تو مجھ سے خفا کس لئے رہی
میں کب یہ چاہتی تھی یہی سلسلہ چلے۔

ٹوٹا ہوا ہے ساز محبت تو دیکھیے
اب کیسے زندگی کا کوئی مرحلہ چلے

سینے میں تیرے ایسے دھڑکتا ہے میرا دل
تو خوش ہے یا اداس مجھے سب پتہ چلے۔

کھڑکی کھلے دیار محبت کے باغ کی
پنچھی پیام لائیں اور باد صبا چلے

اے عشق کے آزار! تری کیا ہی بات ہے
اس شہر بے نیاز میں سکہ ترا چلے۔

منزہ سحر

post bar salamurdu

منزہ سحر

لاہور، پاکستان - شاعرہ، مترجم اور تبصرہ نگار اردو، انگریزی، پنجابی دو شعری مجموعے 1."روشنی" اور 2. "خوبصورت" 3.ایک عدد اردو سفرنامے کا انگریزی ترجمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button