ہم پاؤں پاؤں دشت میں یوں بے نوا چلے
جیسے جنوں کے ساتھ کوئی حوصلہ چلے۔
اے زندگی! تو مجھ سے خفا کس لئے رہی
میں کب یہ چاہتی تھی یہی سلسلہ چلے۔
ٹوٹا ہوا ہے ساز محبت تو دیکھیے
اب کیسے زندگی کا کوئی مرحلہ چلے
سینے میں تیرے ایسے دھڑکتا ہے میرا دل
تو خوش ہے یا اداس مجھے سب پتہ چلے۔
کھڑکی کھلے دیار محبت کے باغ کی
پنچھی پیام لائیں اور باد صبا چلے
اے عشق کے آزار! تری کیا ہی بات ہے
اس شہر بے نیاز میں سکہ ترا چلے۔
منزہ سحر








