ہم رہے چپ چپ ہماری بے زبانی چپ رہی
بیچ میں اس بے زبانی کے کہانی چپ رہی
جل رہا تھا گھر مرا اور میرے بس میں کچھ نہ تھا
اس زمیں کی چپ رہی خلق آسمانی چپ رہی
میری آنکھوں میں کسی خوشبو کا دیکھا عکس بھی
آفرینش اک کلی جو اصفہانی چپ رہی
اک بتِ مغرور نے نظریں چرائیں جان کر
کسمسا کر رہ گئی پھر بھی نشانی چپ رہی
شہ مریدوںؔ نےنئی اک چال سیکھی ہے ابھی
دھوکہ کھاتی ہی رہی ہر بار ہانیؔ، چپ رہی
وقت کے کچھ سورماؤں نے اجاڑا شہر کو
درد سہتی رہ گئی ہے ایک رانی چپ رہی
ایک بچی روئی تھی بابا شہادت پا گئے
میں نے بولا بات رتبے کی ہے، مانی، چپ رہی
جا رہا تھا کوئی تنہا زندگانی جھیل کر
قہقہوں میں وقت تھا دنیائے فانی چپ رہی
میں نے پوچھا چھوڑ کر حسرتؔ کو قد کتنا بڑھا
گر پڑے دو چار جگنو، پر دِوانی چپ رہی
رشید حسرتؔ
٠٦ فروری، ٢٠٢٦







