اردو غزلیاتداغ دہلویشعر و شاعری

تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا

داغ دہلوی کی اردو غزل

تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا
شب معراج یہ کہتے تھے فرشتے باہم
سخن طالب و مطلوب ہوا خوب ہوا
حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
بخشوانا تجھے مر غوب ہوا خوب ہوا
تھا سبھی پیش نظر معرکہ کرب و بلا
صبر میں ثانی ایوب ہوا خوب ہوا
داغ ہے روز قیامت مری شرم اسکے ہاتھ
میں گناہوں سے جو محبوب ہوا خوب ہوا

داغ دہلوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button