آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے
سرخئ شام ترے گال بنا دیتی ہے

بیٹھ جاتے ہیں ملنگ اپنی کہانی لے کر
بھوک درگاہوں کو چوپال بنا دیتی ہے

اس لیے تم کو پریشان نہیں لگتا ہوں
ماں کی عادت ہے مرے بال بنا دیتی ہے

جانے والے ابھی اوجھل نہیں ہونے پاتے
دھول وحشت کے خد و خال بنا دیتی ہے

اک نظر ہوتی ہے کہتے ہیں جسے بد نظری
اک نظر ہوتی ہے لجپال بنا دیتی ہے

کوچہ ء عشق تری خاک کے کیا کہنے ہیں
سر میں پڑتی ہے تو ابدال بنا دیتی ہے

ہم وہ احساس کے مارے ہوئے حاتم, ساجد
اک سخاوت جنہیں کنگال بنا دیتی ہے

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button