اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے

میر تقی میر کی ایک غزل

زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے
یاں تلف ہوتا ہے عالم واں سو عالم اور ہے

پیٹ لینا سر لیے دل کے شروع عشق تھا
سینہ کوبی متصل ہے اب یہ ماتم اور ہے

جوں کف دریا کو دریا سے ہے نسبت دور کی
ابر بھی ووں اور کچھ ہے دیدئہ نم اور ہے

رہتے رہتے منتظر آنکھوں میں جی آیا ندان
دم غنیمت جان اب مہلت کوئی دم اور ہے

جی تو جانے کا ہمیں اندوہ ہی ہے لیک میر
حشر کو اٹھنا پڑے گا پھر یہ اک غم اور ہے

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button