آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعدنان سرمد

جو ہے وہ غُبار سا بچا ہے

عدنان سرمد کی ایک اردو غزل

جو ہے وہ غُبار سا بچا ہے
اس شہر میں اور کیا بچا ہے

منزل کہیں پیچھے رہ گئی ہے وہ
پیروں میں آبلہ بچا ہے

اک رشتہ کھو چکا بھروسہ
اک رستہ گریز کا بچا ہے

سیماب صِفَت چلا گیا ہے
کمرے میں آئینہ بچا ہے

بے وزن ہوئی ہیں سب دلیلیں
جو بچ گیا وہ خدا بچا ہے

ہم جس کو مکان کہہ رہے ہیں
ملبہ امکان کا بچا ہے

عدنان سرمد

post bar salamurdu

عدنان سرمد

عدنان سرمد ایک اردو شاعر ہیں، وہ گوجرانوالہ میں رہتے ہیں اور مختلف اردو مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button