وہ ایک چہرہ مجھے زمانے دکھا رہا ہے
ماوٰی سلطان کی ایک اردو نظم
وہ ایک چہرہ مجھے زمانے دکھا رہا ہے
یوں لگ رہا ہے ،کئی یُگوں سے
اسے اجل سے شدید سی انسیت رہی ہے
ہاں اس کی آنکھوں کی ڈرویوں میں ۔۔۔
عجیب طرح کا شور سا ہے
کہ جیسے کانوں نے جو سہیں وہ تمام باتیں۔۔۔
زہر کی صورت
لہو میں بس کر عیاں ہوئیں سرخ ڈوریوں میں
وہ لب ہلے تو ضرور تھے پر سماعتوں تک لفظ نہ پہنچے
دو چار قدموں پہ وہ کھڑی ہے
مگر مسافت بہت کڑی ہے
وہ ادھ مری سے آواز اس کی
پرانے سازوں کے ٹوٹے تاروں میں دفن جیسے دھنوں کا میلہ
وہ سانس لیتا وجود اس کا
کمال درجہ کی شاعری سا رہا تو ہو گا
مگر وہ سانسیں نقاہتوں کی جو ذر میں آئیں
تو تھک چکی ہیں
بغور دیکھا تو میں نے جانا۔۔۔۔!
کسی بوسیدہ سی ڈائری میں
ادھورے گیتوں کی چند سطریں
جو کاغذوں کو یوں کھا رہی ہوں
کہ جیسے اپنے ادھورے پن کو چھپا کے رکھنا ہو عین واجب
مٹا کے خود کو چھپا کے خود کو بچا کے رکھنے کی انت کوشش چٹخ رہی ہے بدن میں اس کے
مگر وہ سانسیں
جو چل رہی ہیں پتا بتاتی ہیں ڈائری میں چھپے ہوئے ہر ادھورے پن کا
یہ چشم و عارض
گواہیاں ہیں تمام بیتے ہوئے پَلوں کی جو زندگی نے بتائے اس پہ
اوہ یاد آیا
مجھے ضروری سا کام کوئی تھا جانے کیا تھا
سو آئنے سے ہٹا کہ نظریں
تمام قصہ سمیٹنا ہے
ماوٰی سلطان







