آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

چپک کر رہنے والی آنکھ

ایک اردو غزل از رشید حسرت

چپک کر رہنے والی آنکھ ہی منظر کی آسانی
میسر سب ہے لیکن اب نہیں ہے گھر کی آسانی

بڑوں کے مرتبے پر چوٹ کرنے کے سمے بیتے
امیروں میں ہے، جس کو اب تلک ہے ڈر کی آسانی

گلی کوچوں کے منظر سارے ٹھہرے ریزہ ریزہ سے
کہیں ماضی میں پھیکی پڑ گئی ہے در کی آسانی

اگرچہ ہم ترستے ہی رہے ہیں روکھی سوکھی کو
تمہارے واسطے سردار پھر بھی سر کی آسانی

کوئی سُقراطؔ والا ہی پیالہ لے کے آ جانا
اگر مشکل میں رکھتی ہو تمہیں ساغر کی آسانی

سلیقہ شعر کہنے کا کسے اچھا نہیں لگتا
مجھے ہو مستعار اک دن ترے پیکر کی آسانی

اسی تفریق نے حسرتؔ نچوڑا ہے لہو اپنا
مجھے کچا مکاں اس کو ملی مرمر کی آسانی

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۸ مارچ، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button