اردو غزلیاتایوب خاورشعر و شاعری

بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں

ایوب خاور کی اردو غزل

بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں
تُو جفا کار ہوا ہے تو وفا کس سے کریں

آئینہ سامنے رکھیں تو نظر تُو آئے
تُجھ سے جو بات چھُپانی ہو، کہا کس سے کریں

ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا! کون سے دھاگے کو جُدا کس سے کریں

زُلف سے چشم و لب و رُخ سے کہ تیرے غم سے
بات یہ ہے کہ دل و جاں کو رہا کس سے کریں

تُو نہیں ہے تو پھر اے حُسنِ سخن ساز، بتا
اس بھرے شہر میں ہم جیسے مِ لا کس سے کریں

تُو نے تو اپنی سی کرنی تھی، سو کر لی خاور
مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کا گلا کس سے کریں

ایوب خاور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button