لاہور، پاکستان کا دل اور ثقافت کا مرکز، صدیوں سے تاریخ، تہذیب اور حسن کی علامت چلا آ رہا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کی فضا میں ماضی کی خوشبو، حال کی رونق اور مستقبل کی امید بیک وقت محسوس کی جا سکتی ہے۔ لاہور اپنی تاریخی عمارتوں، ادبی روایتوں اور زندہ دل لوگوں کی بدولت ہمیشہ نمایاں رہا ہے، مگر اب یہ صرف ماضی کا شہر نہیں بلکہ ایک جدید اور ترقی یافتہ شہری مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس ترقی کے پیچھے جہاں وقت کا بدلتا تقاضا ہے، وہیں سیاسی قیادت کے کچھ نمایاں اقدامات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے — خصوصاً شہباز شریف اور مریم نواز کے دور میں کیے گئے منصوبوں نے شہر کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔
شہباز شریف کے دورِ حکومت میں لاہور کے بنیادی ڈھانچے نے ایک نئی زندگی پائی۔ سڑکوں، پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر نے آمد و رفت کے نظام کو جدید اور مؤثر بنایا۔ پرانی سڑکوں کو ازسرِنو تعمیر کر کے انہیں جدید سہولیات اور بہتر ڈیزائن سے آراستہ کیا گیا۔ مال روڈ سمیت مرکزی شاہراہوں کی خوبصورتی اور وسعت نے شہر کی ظاہری دلکشی میں اضافہ کیا۔ میٹرو بس سروس کا قیام شہری نقل و حرکت میں ایک انقلاب ثابت ہوا — اس نے سفر کو نہ صرف آسان، محفوظ اور منظم بنایا بلکہ عام شہری کو ایک باوقار سفری سہولت بھی فراہم کی۔
تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی لاہور نے غیر معمولی ترقی کی۔ نئے تعلیمی اداروں کا قیام اور پرانے اداروں کی بہتری نے تعلیمی معیار کو بلند کیا۔ جدید لائبریریوں، تحقیقاتی مراکز اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کلاس رومز نے طلبہ کے لیے نئے دروازے کھول دیے۔ اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں جدید آلات کی تنصیب اور انتظامی بہتری کے باعث علاج معالجے کے نظام کو مستحکم بنیادیں ملیں۔ نتیجتاً لاہور تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ملک کے دیگر شہروں کے لیے مثال بن گیا۔
شہباز شریف کے دور میں شہر کی صفائی، تزئین و آرائش اور ماحولیات کے شعبوں میں بھی نمایاں کام ہوا۔ کوڑا کرکٹ کے انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں گرین بیلٹس، عوامی پارکس اور تفریحی مقامات قائم کیے گئے تاکہ شہریوں کو صحت مند ماحول میسر آ سکے۔ دریائے راوی کے اطراف شجرکاری کے منصوبوں اور گرین زونز کے قیام نے لاہور کے قدرتی حسن میں اضافہ کیا اور عوام میں ماحولیاتی شعور کو اجاگر کیا۔
مریم نواز نے لاہور کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حفاظت و فروغ میں بھرپور دلچسپی لی۔ ان کی سرپرستی میں لاہور فورٹ، شالیمار باغات اور دیگر تاریخی مقامات کی بحالی کے منصوبے مکمل ہوئے، جس سے شہر کی ثقافتی شان دوبارہ نمایاں ہوئی۔ ان اقدامات نے نہ صرف تاریخی مقامات کو محفوظ بنایا بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی مدد دی۔ مریم نواز کے سماجی پروگرامز نے خواتین اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی و معاشی مواقع پیدا کیے۔ ان کی کاوشوں سے شہر میں سماجی ہم آہنگی، ثقافتی سرگرمیوں اور کمیونٹی سطح پر تعاون کا جذبہ فروغ پایا۔
آج کا لاہور اپنی چمکتی سڑکوں، بلند عمارتوں، جدید بازاروں اور تفریحی مقامات کے ساتھ ایک نیا روپ پیش کر رہا ہے۔ شاپنگ مالز، بزنس سینٹرز اور تجارتی سرگرمیوں نے شہر کی اقتصادی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ شہر اپنی روایتوں سے بھی جڑا ہوا ہے — یہاں کی گلیاں، کھانے، محفلیں اور تہذیبی رنگ اب بھی اس کے قدیم ورثے کی یاد دلاتے ہیں۔ لاہور نے ترقی اور روایت کے سنگم پر ایک ایسا توازن قائم کیا ہے جو اسے پاکستان کے دیگر شہروں سے منفرد بناتا ہے۔
لاہور کی ترقی محض عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر تک محدود نہیں، بلکہ شہری زندگی کے ہر پہلو میں اس کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، صفائی، ماحولیات، اور ثقافت — ہر میدان میں جدید خطوط پر کام ہوا ہے۔ شہباز شریف اور مریم نواز کے اقدامات نے شہر کو نہ صرف ترقی کی راہ پر گامزن کیا بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا۔ آج کا لاہور ایک جدید، روشن اور متحرک شہر ہے جس نے ماضی کی عظمت اور حال کی ترقی کو حسین امتزاج میں پرو دیا ہے۔
یہی لاہور اب دنیا کے سامنے پاکستان کی پہچان بن کر ابھر رہا ہے۔ یہ شہر اپنے تاریخی ورثے اور جدید ترقی کے امتزاج سے نہ صرف مقامی باشندوں کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی دلکشی کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ لاہور کی یہ ترقی پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت اور عوام کے باہمی تعاون کا ثمر ہے۔ یہ شہر آج جس شان، نظم اور حسن کے ساتھ کھڑا ہے، وہ آنے والے پاکستان کا روشن چہرہ ہے — ایک ایسا چہرہ جو روایت کی خوشبو اور ترقی کی روشنی دونوں سمیٹے ہوئے ہے۔
یوسف صدیقی







