اردو غزلیاتشعر و شاعریمجید امجد

دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے

مجید امجد کی ایک اردو غزل

دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے
کِس قیامت کی، رات گزُری ہے

چاندنی، ۔۔ نیم وا دریچہ، سکوت
آنکھوں آنکھوں میں رات گزُری ہے

ہائے وہ لوگ، خُوب صُورت لوگ
جن کی دُھن میں حیات گزُری ہے

کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج
کتنی یادوں کے سات۔ گزُری ہے

تمتماتا ۔۔ہے ۔۔ چہرۂ ۔۔ ایّام
دل پہ کیا واردات گزُری ہے

پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے
کہ، نسیمِ حیات گزُری ہے

بُجھتے جاتے ہیں دُکھتی پلکوں پہ دِیپ
نیند آئی ہے، رات گزُری ہے

مجید امجد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button