اردو نظمایوب خاورشعر و شاعری

اجازت

ایوب خاور کی اردو نظم

شاہ زادی!
یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں
عجب انداز کے جگنو چمکنے کے لیے بے تاب ہیں
پلکیں اُٹھا اور اب انھیں آزاد رم کر دے
ایک لمحے کو
مجھے ان جگنوؤں سے بات کرنے دے
ذرا ان کے پرَوں کی سرسراہٹ کو
مرے دل میں اُترنے دے
چاندنی جیسی ملائم خامشی میں
ان ستاروں کو مرے تن پر بکھرنے دے
ان کی جھلمل کو
مرے ہاتھوں کی پوروں میں سلگنے دے
ایک لمسِ اوّلیں کی آنچ پر
ان کی اُڑانوں کو پگھلنے دے
مجھے ان جگنوؤں کے ساتھ
اپنے وصل کے سانچے میں ڈھلنے دے

ایوب خاور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button