ابنِ انشاءاردو نظمشعر و شاعری

لطیف چئی جمال ناز

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

مہرباں مہرباں وا شگفتہ جبیں
مرے آنگن میں آتا ہے پیارا مرا
اس سے بڑھ کے ہے میرا وہ مہر جبیں
چاند اچھا سہی چودھویں رات کا
مرے در پہ ہے لوگوں کی منڈلی کھڑکی
میرے پیارے کی سب لوگ باتیں کریں
میرے گھر میں تو ہے آج اتری خوشی
جن کو جلنا ہے جلتے ہیں جلتے رہیں
سیکڑوں مہر ہوں ۔ بیسیوں ماہ ہوں
مجھ کو سو گندا للہ کے نام کی
اس کے مکھڑے بنا منزلوں منزلوں
رات ہی رات مجھ کو نظر آئے گی
کتنا کم ارز ہے ہیچ ہے چاند تو
شب کو آئے نظر ، شب کو چمکا کرے
میرے پیارے کے آگے بہت ماند تو
دائمی میں اجالے مرے دوست کے
صبح دم اٹھ کے محبوب کے کان ہیں
یہ سندیسہ ہمارا سنا نا سجن
تجھ پہ ہم غم زدوں کی ہیں آنکھیں لگیں
دیکھ ہم کو نہیں بھول جانا سجن

ابن انشاء

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button