- Advertisement -

فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ

ایک اردو غزل از رفیق لودھی

فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ
ہری زمین سے باہر اُچٹ گئے ہم لوگ

کہا تھا موت نے تم بزدلوں کے ساتھی ہو
سو دل بضد تھے مقابل میں ڈٹ گئے ہم لوگ

ہمارے ہاتھ بچاتے رہے چراغوں کو
نظر دیے پہ رکھے لو سے اٹ گئے ہم لوگ

ہمارے بیچ کوئی مہرباں نہیں آیا
خود اپنے آپ ہی رستے سے ہٹ گئے ہم لوگ

ہوائے شہر سے خوشبو تمھاری آتی ہے
فضائے شہر سے ایسے لپٹ گئے ہم لوگ

سو حرف آئے گا مجنوں ترے قبیلے پر
قدم اُٹھاتے ہی واپس پلٹ گئے ہم لوگ

بچھڑنے والے بچھڑتے چلے گئے لودھی
کسی دعا کسی رشتے سے کٹ گئے ہم لوگ

رفیق لودھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از رفیق لودھی