آپ کا سلاماردو غزلیاتحارث بلالشعر و شاعری

اپنا ملن کسی کی دلی

حارث بلال کی ایک اردو غزل

اپنا ملن کسی کی دلی بد دعا بھی ہے
یعنی ہمارا وصل ہماری سزا بھی ہے

اس پر ٹھہر سکے تو ٹھہر، چل سکے تو چل
یہ دل قیام گاہ بھی ہے، راستہ بھی ہے

المختصر ! تمھاری مہک اوڑھتے ہوئے
احساس ہوگیا کہ اسے پھیلنا بھی ہے

تجھ پر خوشی غمی کو ملایا گیا کہ تُو
اک خوشگوار یاد بھی ہے، سانحہ بھی ہے

اچھا تری نظر میں بہت مختلف ہوں میں
یعنی تری نظر میں کوئی دوسرا بھی ہے

ساری حسوں کی ڈور سماعت کو سونپ کر
اس دل پہ کان رکھ، کہ خدا بولتا بھی ہے

ہر ایک داستان کے ہر ایک موڑ پر
حارثؔ یہ سوچنا کبھی ایسا ہوا بھی ہے

حارث بلال

post bar salamurdu

حارث بلال

حارث بلال 1993دسمبر میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "ہم شجر" نومبر 2025 میں شائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایم فل کی ڈگری لمز یونیورسٹی لاہور سے حاصل کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ تا حال وہ نمل یونیورسٹی میانوالی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button