جا کہہ جو دیا، چاند کا ٹکڑا نہیں کہتے
دنیا کو ترے حسن کا صدقہ نہیں کہتے
اس واسطے دنیا سے نہیں بنتی ہماری
جیسا یہ ہمیں کہتی ہے، ویسا نہیں کہتے
گو اُس کے سبھی شعر بہت خوب ہیں لیکن
اس فن میں اُسے واحد و یکتا نہیں کہتے
خود ان کو بھی اقبال ترے در سے ملا ہے
ہم اس لیے شاہوں کا قصیدہ نہیں کہتے
اِک بار کبھی دھوکہ دیا زیست میں جس نے
بھولے سے بھی اُس شخص کو اپنا نہیں کہتے
میں کیوں نہ انہیں سچ میں بری ہو کے دکھاؤں
احباب مجھے یوں بھی تو اچھا نہیں کہتے
روبینہ پریشان نہ ہو، ان کے کہے پر
یہ لوگ تو مریم کو بھی کیا کیا نہیں کہتے
روبینہ شاد








