اردو غزلیاتشاہد ماکلیشعر و شاعری

بلائیں پردۂ سیمیں پہ جلوہ گر ہوں گی

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

بلائیں پردۂ سیمیں پہ جلوہ گر ہوں گی
نئی کہانی کی بنیادیں خوف پر ہوں گی

پھلے گا اور ابھی نارسائی کا گلشن
فغاں کی ٹہنیاں کچھ اور بارور ہوں گی

چھڑی تو پھر نہ رکے گی حیاتیاتی جنگ
ہماری زندگیاں خوف میں بسر ہوں گی

جو عکس بند کرو گے ہماری وحشتوں کو
تو زومبی فلم سے بڑھ کر وہ مشتہر ہوں گی

نظام دہر مشینوں کے ہاتھ میں ہوگا
جدید دور کی تہذیبیں بے بشر ہوں گی

کبھی نہ فیصلہ ہو پائے گا کدھر جائیں
نظر کے سامنے دنیائیں اس قدر ہوں گی

ہم ان میں بیٹھ کے گھومیں گے کائناتوں میں
نئی سواریاں کرنوں سے تیز تر ہوں گی

رہے گا اب نہ کہیں وقت کا تصور بھی
تمام ساعتیں بے شام و بے سحر ہوں گی

جدھر کو باغ تھے بازار بن گئے ہیں وہاں
نہ جانے تم سے ملاقاتیں اب کدھر ہوں گی

وہ ٹوٹ جائیں گے جو ہاتھ تم جھٹک دو گے
وہ پھوٹ جائیں گی جو آنکھیں بے بصر ہوں گی

خدا کے نور سے محروم ہیں جو تہذیبیں
وہ کہکشاں کی طرف عازم سفر ہوں گی

اور اب تو چاند پہ آباد کاری ہونے لگی
چمکتی وادیاں انساں کا مستقر ہوں گی

یہ سب حصول وسائل کی دوڑ ہے پیارے
نئی لڑائیاں مریخ و ماہ پر ہوں گی

یہ بات کیوں نہیں سوچی کلون سازوں نے
کہ اس سے مشکلیں انساں کو کس قدر ہوں گی

نہ اب اداسیاں ہوں گی بکھیر کر خود کو
نہ اب مسرتیں خود کو سمیٹ کر ہوں گی

ہمارے تجربے اوروں کو فائدہ دیں گے
ہماری کوششیں ناکام بھی اگر ہوں گی

نہ سوچا تھا یہ کبھی خلد سے نکلتے ہوئے
کہ اس سے بڑھ کے سزائیں تو خاک پر ہوں گی

جو ہولناک ہیں پرچھائیاں یہاں شاہدؔ
ضرور اور کہیں جاذب نظر ہوں گی

شاہد ماکلی

post bar salamurdu

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button