آپ کا سلاماردو غزلیاتروبینہ صدیق رانیشعر و شاعری
اپنی حیا میں اشک سموتی ہے آج بھی
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل
اپنی حیا میں اشک سموتی ہے آج بھی
شبنمٗ وفا کی یاد میں روتی ہے آج بھی
آزادیوں کے گیت سناؤ نہیں مجھے
صدیوں سے قید سیپ میں موتی ہے آج بھی
جاگیر بڑھ رہی ہے یہ دکھ درد کی مری
اک یاد تیری خار چبھوتی ہے آج بھی
صحرا ہوئی ہے زندگی تیرے بغیر یوں
وحشت سی اپنے آپ سے ہوتی ہے آج بھی
آ کر کبھی یہ آنکھ سے میری بھی پوچھ لو
آنچل کیا سوچ کر وہ بھگوتی ہے آج بھی
احساس ِ زندگانی کے دھاگوں میں روز و شب
رانیؔ وفا کے موتی پروتی ہے آج بھی
روبینہ صدیق رانی







