آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتعمران سیفی

سوتے رہنا صرف بہانہ ہوتا ہے

عمران سیفی کی اردو غزل

سوتے رہنا صرف بہانہ ہوتا ہے
مقصد اس سے ملنے جانا ہوتا ہے

ایک جگہ پر کام ملا ہے اور وہاں
آوازوں کا شور بنانا ہوتا ہے

مجھکو بھی اس شام میں میرا حصہ دو
میں نے بھی تو دیپ جلانا ہوتا ہے

جھگڑا میرا اور مری قسمت کاہے
اس نے تو بس بیچ میں آنا ہوتا ہے

ہم ایسوں کی عمر گزرتی جاتی ہے
جیسے جیسے زخم پُرانا ہوتا ہے

عمران سیفی

عمران سیفی

میرا نام عمران سیفی ہے میں ڈنمارک میں مقیم ہوں پاکستان میں آبائی شہر سیالکوٹ ہے میرا پہلا شعری مجموعہ ستارہ نُما کے عنوان سے چھپ چکا ہے جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button