عید کا ریشم یا جہنم کی تپش؟
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
ہماری منافقت، مدینے کا یتیم اور روزِ محشر کا سوال
مدینے کی اس مبارک صبح کو یاد کیجیے جب کائنات کے والی ﷺ نے ایک یتیم کو مٹی پر روتے دیکھا تھا۔ اس کے باپ کا سایہ جہاد میں اٹھ چکا تھا، ماں نے بے وفائی کی اور دنیا نے اسے ٹھکرا دیا۔ تب رحمتِ عالم ﷺ نے اسے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا تھا: "کیا تم راضی نہیں کہ محمد (ﷺ) تمہارا باپ ہو؟” وہ یتیم جس کے پاس تن ڈھانپنے کو چیتھڑے نہیں تھے، اسے جب نبی ﷺ کے گھر لایا گیا تو اسے شہزادگانِ جنت، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کا لباس پہنایا گیا۔ یہ عمل تاقیامت اس امت کے لیے ایک عبرت تھا کہ یتیم کو اپنے برابر کھڑا کرو، اسے اپنے نواسوں جیسا مقام دو۔
مگر آج ہم نے اس سنت کا کیا حشر کر دیا؟ ہماری عیدیں اب اللہ کی رضا نہیں بلکہ نفس کی پوجا بن چکی ہیں۔ ہم برانڈڈ کپڑوں کی تہوں میں اپنی مردہ غیرت کو چھپا کر عید گاہ جاتے ہیں۔ پیروں میں مہنگی جوتیاں پہن کر ہم اس زمین پر تکبر سے چلتے ہیں جس کے نیچے ہزاروں یتیموں کی آہیں دفن ہیں۔ ہم نے ایک آدھ کھوٹا سکہ کسی فقیر کی جھولی میں پھینک کر یہ سمجھ لیا کہ ہم نے جنت کا سودا کر لیا۔ کیا یہ ایمان ہے یا محض ایک ڈھونگ؟
ذرا سوچیے! جب روزِ محشر ہم اس عظیم ہستی ﷺ کے سامنے کھڑے ہوں گے جن کے ہم کلمہ گو ہیں، اور وہ ہم سے پوچھیں گے: "اے ریشم و اطلس پہننے والے امتی! جب تم عید کی خوشیاں منا رہے تھے، تو کیا تمہیں اپنے پڑوس کے اس گھر کی خبر تھی جہاں یتیم بچے پرانی قمیض کو پیوند لگا کر چھپ رہے تھے؟ کیا تمہیں ان بیواؤں کی سفید پوشی کا خیال تھا جن کے چولہے اس دن بھی ٹھنڈے تھے؟” اس وقت ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ کیا ہم وہاں بھی "حکومتی نااہلی” اور "مہنگائی” کا رونا روئیں گے؟
حکومتوں سے گلہ کیا کرنا، وہ تو جھوٹے وعدوں اور تسلیوں کی تاجر ہیں۔ عبرت کا مقام تو ہمارے لیے ہے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ ہم اپنی اولادوں کے لیے تو بہترین ریشم خریدتے ہیں مگر یتیم کے لیے ہمارا دل پتھر ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیے! اگر ہم نے اپنے وصیلے سے کسی یتیم کا آنسو نہیں پونچھا، تو ہم عید کا جوڑا نہیں بلکہ جہنم کا ایندھن خرید رہے ہیں۔ ہماری یہ دولت، یہ ٹھاٹھ باٹھ اور یہ عالی شان زندگی اس دن کسی کام نہیں آئے گی جب اللہ کے حضور حساب کا ترازو لگے گا۔
عبرت پکڑیے اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔ عید محض پیٹ بھرنے اور نئے کپڑے بدلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے ضمیر کو بدلنے کا دن ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنے گلی محلے کے محروموں کے لیے اپنے دروازے اور دل نہ کھولے، تو یاد رکھیے کہ ہمارا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنہوں نے دین کو صرف ایک تماشہ بنا لیا تھا۔
پیر انتظار حسین مصور







