آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمنیر جعفری

دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے

ایک اردو غزل از منیر جعفری

دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے
خاک پر ورنہ کہاں آبِ رواں ہوتا ہے

اس اداسی میں ترے جسم کا نو خیز گلاب
جیسے صحرا میں کوئی میٹھا کنواں ہوتا ہے

پیار کا پھول ہر اک دور میں تازہ رہے گا
رخ بدلتا بھی ہے دریا تو رواں ہوتا ہے

بعض اوقات بدن اوڑھ کے ڈر جاتا ہوں
مجھ کو ملبوس میں بھی تیرا گماں ہوتا ہے

اپنے سائے میں مجھے بیٹھنے دیتا ہی نہیں
پیڑ جو بھی مرے پہلو میں جواں ہوتا ہے

خامشی چھوڑ گئی کیسی نمی ہونٹوں پر
لفظ کی آگ جلاتا ہوں دھواں ہوتا ہے

اس کا مطلب ہے یہاں غم کی کوئی قدر نہیں
جس کو بھی دیکھو وہی محوِ فغاں ہوتا ہے

لیٹ جاتا ہوں روایات کی دیوار کے ساتھ
لوگ کہتے ہیں یہاں عشق جواں ہوتا ہے

حسن ہر رنگ میں تحسین کے لائق ہے منیر
پیڑ سوکھا ہو تو عبرت کا نشاں ہوتا ہے

منیر جعفری

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button