- Advertisement -

کیریئر زیادہ اہم ہے یا حمل؟

سید زاہد کا ایک کالم

پچھلے ہفتے امریکی سپریم کورٹ کے ابارشن قوانین پر دیے گئے فیصلہ کے خلاف پورے ملک میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ اسی سلسلے میں معروف امریکی میگزین دی اٹلانٹک پر لکھنے والی سپورٹس جرنلسٹ جمیلی ہل نے اپنے کیریر کو سامنے رکھتے ہوئے بیس سال پہلے حمل ضائع کروانے کا ذاتی تجربہ بیان کیا ہے۔

جب میں نے اسقاط حمل کروایا اس وقت میں مشی گن میں ڈیٹرائٹ فری پریس میں اسپورٹس جرنلسٹ تھی۔ میرے مالی حالات اتنے مستحکم تھے کہ ایک بچے کی کفالت کر سکتی تھی۔ میرا خاندان مدد کے لیے موجود تھا۔ میرے تعلقات اس وقت جس آدمی کے ساتھ تھے وہ اور اس کا خاندان بھی ساتھ نبھانے کو تیار تھے۔ لیکن وہ اس اہل نہیں تھا کہ اس کے ساتھ زندگی بتائی جا سکے۔ میرے ماں باپ نے کبھی شادی نہیں کی اور میں ان کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے اچھی طرح آگاہ تھی اس لیے میں ایک ایسا بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی جس کے والدین کے اپنے تعلقات ابھی کچے پکے تھے۔

ان باتوں کے علاوہ میرے لیے میرا کیریئر بہت اہم تھا۔ اسپورٹس جرنلسٹ بننا میرا خواب تھا۔ میں سمجھتی تھی میں نے اپنے لیے جو مستقبل چنا ہے بچہ اس راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ جس ڈھب سے میری زندگی چل رہی تھی اس میں بچہ پالنا بہت مشکل تھا۔ ایک کالج کی کھیلوں کی رپورٹر کے طور پر، میں مشی گن اسٹیٹ فٹ بال اور باسکٹ بال کی ٹیموں کے ساتھ سال میں تقریباً آٹھ ماہ گھر سے دور گلی گلی شہر شہر گھومتی تھی۔ مشی گن سٹیٹ کی مردوں کی باسکٹ بال ٹیم سپارٹنز ایک اعلیٰ ٹیم کے طور پر ابھری تھی۔

اس نے 2000 میں نیشنل کالج اتھلیٹک ایسوسی ایشن چیمپئن شپ جیت لی تھی۔ اس سے مجھے ایک ایسی ٹیم کو کور کرنے کا موقع ملا جو قومی سطح پر نمایاں تھی۔ مجھے امید تھی کہ یہ تجربہ مجھے اپنے مقصد کے بہت قریب پہنچا سکتا ہے، جو اس وقت کھیلوں کے میگزین سپورٹس السٹریٹڈ کا رائٹر بننا تھا۔ میں اپنے پیٹ میں بچے کا بوجھ اٹھا کر اور پھر اس کی پرورش کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے یہ کام نہیں کر سکتی تھی۔ میں دنیا گھومنا چاہتی تھی۔ میں آزاد رہنا چاہتی تھی۔ میں اپنا کیریر بنانا چاہتی تھی۔ اس میں بچے کی خواہش کہیں بھی موجود نہیں تھی۔

میں جانتی ہوں کچھ لوگ اسے پڑھ کر سوچیں گے کہ میں خود غرض تھی۔ وہ عورتیں جو مردوں کی طرح اپنے کیریر اور نوکری کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں انہیں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کچھ لوگ شاید مجھے غیر ذمہ دار کہیں گے۔ لیکن غلطیاں ہوتی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے بن چاہا حمل کوکھ میں جگہ بنا لیتا ہے۔ اس حمل کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ صرف ایک رات کی ملاقات، کسی ریلیشن شپ یا بن سوچے ملاپ کا نتیجہ ہے۔ عورت کو اس بن چاہے حمل کے بوجھ سہارنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عورت کوایک ایسے بچے کو جنم دینے اور پالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جس کی اسے خواہش ہی نہیں۔

سال ہا سال یہ ابارشن مجھے کچوکے لگاتی رہی۔ میرے ضمیر پر بوجھ بنی رہی۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ میں نے شاید صحیح فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ہاں میں افسردہ رہی لیکن مجھے کبھی کوئی پچھتاوا نہیں تھا اور نہ ہی اس بات کی فکر تھی کہ میں نے کوئی غیر انسانی فعل کیا ہے۔ مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ مجھے اپنے جسم اور زندگی پر مکمل اختیار ہے اور مجھے اس پر معذرت خواہ نہیں ہونا چاہیے۔ خواتین مختلف وجوہات کی بنا پر حمل ضائع کرنے کے بارے میں سوچتی ہیں۔ بعض اوقات ان وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچہ پیدا کرنا کسی بھی طرح ان کی خواہش نہیں ہوتی۔

ہم عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے لیے وہ چنیں جو انہیں مناسب لگتا ہے۔

اگرچہ اب میں شادی شدہ ہوں، میری عمر چالیس سال سے تجاوز کر چکی ہے اور میری گود ابھی تک خالی ہے لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ایک اہم موقع کھو چکی ہوں۔ نہ کبھی مجھے یہ خیال آیا ہے کہ میرا وہ بچہ ہوتا تو میری زندگی کیسی ہوتی؟ میں اپنی موجودہ زندگی سے بہت مطمئن ہوں۔ میں اس فیصلے پر کبھی پشیمان نہیں ہوئی۔ میں نے وہ فیصلہ اپنے اس بوائے فرینڈ کی مکمل حمایت کے ساتھ کیا تھا اور اس حمل کا علم ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی کر لیا تھا۔

یہ اس لیے نہیں تھا کہ میرے لیے وہ فیصلہ کرنا آسان تھا۔ ہاں میں اتنا جانتی تھی کہ میرے لئے کیا صحیح ہے؟ میں اسقاط حمل کی بحث کے اخلاقی پہلووں کو سمجھتی ہوں اور ان لوگوں کا احترام کرتی ہوں جو ان حالات میں مجھ سے مختلف فیصلہ کریں گے۔ انہیں اپنے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا پورا حق ہے اور میں ان کے اس حق کو پرزور حامی کرتی ہوں۔

ساؤتھ فیلڈ میرے شہر کی قریب ایک مضافاتی علاقہ ہے میں وہاں اسقاط حمل کے ایک کلینک پر گئی۔ اس کلینک میں ابتدائی حمل کو ایک ویکیوم کی مدد سے باہر کھینچ لیا گیا۔ اس سارے عمل میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ جب میں معائنہ کے اس کمرے سے باہر آئی تھوڑا سے خون پڑا اور ہلکا سا درد ہوا۔ چند دنوں میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔

میں خوش قسمت ہوں کہ اس وقت مجھے یہ سہولت حاصل تھی۔ اگر اس وقت امریکی سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ آ چکا ہوتا تو میرے لیے مسئلہ بن جاتا۔ مشی گن ان نو ریاستوں میں سے ایک ہے جس میں رو بمقابلہ ویڈ کے 1973 کے فیصلے سے پہلے انسداد اسقاط حمل کے قوانین موجود تھے۔ اس فیصلے سے اب ریاست میں 1931 کا اسقاط حمل پر مکمل پابندی کا قانون پھر بحال ہو گیا ہے۔ اس قانون کے تحت عصمت دری یا محرم کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والے حمل کو بھی استثنا حاصل نہیں۔

مشی گن کے موجودہ گورنر نے اسقاط حمل کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے عزم کا اظہار کیا ہے اور ریاست کی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کر دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ عدالت اسے اپنا وعدہ پورا کرنے کی اجازت دے گی۔ لیکن بدقسمتی ہے کہ اس ریاست میں ریپبلکن پارٹی کے قدامت پرست ممبران کی اکثریت 1931 کے قدیم قانون کو بحال کرنا چاہتی ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد امریکی خواتین کی آنے والی نسلوں کو اسقاط حمل کا وہ حق حاصل نہیں ہو گا جو ہمیں تھا۔ آج مجھے ایک عورت کے طور پر 20 سال پہلے سے کی نسبت کم حقوق حاصل ہیں۔ یہ اس ملک کے مستقبل کا ایک افسوسناک منظر ہے۔ جب میں نے اسقاط حمل کروایا، تو یہ میرا استحقاق تھا۔ اس سے مجھے ایک بہترین کیریر بنانے میں مدد ملی کیونکہ مجھ پر بچہ پالنے کا بوجھ نہیں تھا۔ اب یہ قانون خواتین اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کو تباہ کر دے گا۔ سی ڈی سی کے مطابق، سیاہ فام اور ہسپانوی خواتین میں اسقاط حمل کی شرح سفید فام خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان خواتین پر پہلے ہی زیادہ بچوں کا بوجھ موجود ہوتا ہے۔ اس طرح وہ سفید فام عورتوں کی نسبت اپنا کیریر خراب کر لیں گئیں۔

میری خواہش ہے کہ میں امریکی تاریخ کے اس نازک موقع پر لڑکیوں اور خواتین کے لیے کچھ تسلی بخش الفاظ لکھ سکوں۔ خاص طور پر ان دو درجن یا اس سے زیادہ ریاستوں میں موجود انسانی حقوق کی علمبردار خواتین کو کچھ حوصلہ دے سکوں جہاں اسقاط حمل پر بڑی حد تک پابندی لگ چکی ہے یا جلد ہی لگا دی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ رجعت پسندی پر مبنی ہے اور سیاسی بنیادوں پر دیا گیا ہے۔

بہت سی خواتین اس وقت جو درد محسوس کر رہی ہیں وہ بہت زیادہ اور خطرناک ہے۔ امریکہ میں ہماری حیثیت، ہماری آزادی، کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اسقاط حمل کی کہانیاں سناتے رہیں گے۔ یہ ہماری طاقت بنیں گئیں۔ کسی بھی عورت کو یہ بتاتے شرم محسوس نہیں ہونی چاہیے اس نے ابارشن کروائی ہے یا کروانا چاہتی ہے۔ کسی کو یہ سوچنا بھی نہیں چاہیے کہ اس نے کوئی غلط کام کیا ہے۔ یہ کام غیر اخلاقی نہیں ہے۔ غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی حرکت یہ ہے کہ انہیں غلام بنا کر، ان کے حقوق چھین کر، ان کے جسم کا اختیار ان کی بجائے کسی ریاست، پارٹی یا شخص کے حوالے کر دیا جائے۔

وہ ریاستیں جن میں اسقاط حمل پر پابندی لگا دی گئی ہے انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ قوانین اسقاط حمل کو نہیں روکیں گے۔ خواتین ہمیشہ خود فیصلہ کریں گئیں کہ ان کے جسم کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں؟
چاہے وہ قانونی ہو یا نہ ہو۔

سید محمد زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ابو مدثر کا ایک اردو کالم