آپ کا سلاماردو غزلیاتامن شہزادیشعر و شاعری

شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا

امن شہزادی کی ایک اردو غزل

شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا
وہ پرندہ جو نشانے پہ نہیں آتا تھا

امتی گھیر کے لاتے تھے اسی گھر کی طرف
دکھ محمد کے گھرانے پہ نہیں آتا تھا

میری خاموشی اسے کھینچ کے لے آئی ہے
وہ جو آواز لگانے پہ نہیں آتا تھا

جو ہمیں اب پس دیوار نظر آتا ہے
کبھی دیوار گرانے پہ نہیں آتا تھا

اس سے پہلے بھی بہت جھگڑا ہوا کرتا تھا
چھوڑ جانے کے دہانے پہ نہیں آتا تھا

امن شہزادی

post bar salamurdu

امن شہزادی

امن شہزادی، نئی نسل کی ابھرتی ہوئی اور اثردار آوازوں میں سے ایک ہیں، جن کی پیدائش 13 اکتوبر 1999 کو حافظ آباد، پاکستان میں ہوئی۔ وہ اس وقت UET (یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولاجی) میں ماحولیاتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ساتھ ہی شاعری کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی شاعری، جو دل سے جڑے جذبات اور گہرائی سے بھرپور ہے، نے انہیں نوجوان ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی دلائی ہے۔ اپنے ہمعصروں سے کچھ مختلف، امن کے پاس خوبصورت خیالات اور احساسات کو کاغذ پر زندگی بخشنے کا ایک نایاب ہنر ہے، جو ان کی انفرادیت کو اجاگر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button