آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

سعید شارق کی ایک اردو غزل

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
خوش ہی اتنا ہوں کہ آنکھوں سے ہنسی نکلی ہے

تین حصوں میں بٹا رہتا ہے اب گھر میرا
تیرے آ جانے سے کب تیری کمی نکلی ہے

عین ممکن ہے وہیں میرے شب و روز بھی ہوں
شہر نا وقت کے ملبے سے گھڑی نکلی ہے

کون آسیب ہے اس خواب سرا کا باسی
روشنی آنکھ سے چلاتی ہوئی نکلی ہے

خیر میں تو کہیں موجود ہی کب ہوں شارقؔ
رہی ویرانی سو وہ گھر سے ابھی نکلی ہے

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button