اردو غزلیاتسعد اللہ شاہشعر و شاعری

حیرتِ پرتوِ مہتاب سے باہر نکلا

ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ

حیرتِ پرتوِ مہتاب سے باہر نکلا
آنکھ کھلتے ہی میں اک خواب سے باہر نکلا

خاک برباد ہوئی ہے تو اُڑی پھرتی ہے
کب کوئی عالمِ اسباب سے باہر نکلا

زہرناکی مرے ماحول کو مجھ ہی سے ملی
میں کہاں منظرِ شاداب سے باہر نکلا

وہ زمیں بوس ہوا اور ہوا خاک میں خاک
جو ستارا کہ تب و تاب سے باہر نکلا

میں خلاؤں سے پلٹ آیا ہوں اور سوچتا ہوں
کچھ نہیں حسرتِ نایاب سے باہر نکلا

اک سلگتی سی تمنا کا دھواں ہے دل میں
بس یہی دیدۂ تلخاب سے باہر نکلا

شہپرِ خوف کا سایہ ہے ابھی تک سر پر
سعدؔ کب قریۂ خونناب سے باہر نکلا

سعد اللہ شاہ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button