اب کے یوں اس کو صدا دی جائے
کوئی دیوار گرا دی جائے
اب اندھیرا بھی ہے سناٹا بھی
شمعِ آواز جلا دی جائے
گھر کی سہمی ہوئی دیواروں پر
کوئی تصویر بنا دی جائے
جس کو دیکھا بھی نہ ہو جی بھر کے
کیسے وہ شکل بھلا دی جائے
اتنا تنہا ہوں کہ جی چاہتا ہے
آسمانوں کو صدا دی جائے
تجھ کو بھولیں نہ تجھے یاد کریں
یوں بھی کچھ عمر گنوا دی جائے
نذیر قیصر








