چوگا چنتی چڑیا تیری پلکوں پر اُگنے والے
خوابوں کے انکھوئے
کون چُن سکتا ہے!
تو تو یہ بھی نہیں جانتی
جانے کب کوئی میلی نظروں کا جال تجھ پر پھینکے
اور تو بے نور آنکھوں کے پنجرے میں قید ہوکر
تمام عمر کے لیے
چہکنا بھول جائے
چڑیا تو تو پگلی ہے
چوگا چنتی خواب دیکھتی ہے
تجھے کیا معلوم ہے؟
کبھی کبھی خوابوں کی مانگ بھرنے کے لیے
آنکھوں کی ویران کھڑکیوں سے
ٹھٹھرے ہوئے رت جگے
بوند بوند دل کی زمین پر ٹپکتے ہیں تو
وہاں دور دور تک اُداسی بھرا جنگل
اُگ آتا ہے
جس پر سوائے دُکھ درد کے کوئی پھل نہیں لگتا
مگر بھولی چڑیا
تُو یہ سب نہیں جانتی
شاید کبھی جان بھی نہیں سکتی!!
نجمہ منصور








