آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

بیٹھے بٹھائے سر پہ یہ افتاد آ گئی

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

بیٹھے بٹھائے سر پہ یہ افتاد آ گئی
لو۔۔! ایک اور سانس ترے بعد آ گئی

میں جی رہا تھا اپنی مدد آپ کے تحت
صد شکر تیرے ہجر کی امداد آ گئی

تحریک پیش کر دوں عدم اعتماد کی
جو چاہیئے تھی اشکوں کی تعداد ، آ گئی

اس روز تیری آنکھ بھی ، کاجل بھی ختم شد
جس روز تجھ کو میری غزل یاد آ گئی

ممکن تھا بال و پر سے قفس کو ادھیڑتے
پر کیا کریں کہ غیرت صیاد آ گئی

مصرعے بنائے جاتا ہوں اشکوں کو روک کر
کیسی صلاحیت یہ خداداد آ گئی

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button