آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی
آنکھوں پہ عیاں کیسے ہو اندر کی اداسی

پیوست , مرے سینے سے نکلا تو زمیں پر
کچھ دیر ٹپکتی رہی , خنجر کی اداسی

اک صبح پرندوں نے پڑھا صبر کا نوحہ
اک شام کُھلی پیڑوں پہ منظر کی اداسی

کیوں کوئی خوشی راس نہیں آتی ہے مجھ کو
کیوں ڈھونڈ رہی مجھکو جہاں بھر کی اداسی

جو وحشتِ صحرا کی طرفداری میں گم ہے
لاؤ اسے دکھلاؤ مرے گھر کی اداسی

میں بھانپ گیا تیز ہواؤں کا ارادہ
عجلت میں چراغوں کے برابر کی اداسی

ارشاد سماعت پہ کسی بار کی صورت
خاموش مگر گہرے سمندر کی اداسی

ارشاد نیازی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button