آپ کا سلاماردو غزلیاتامن شہزادیشعر و شاعری

یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں

امن شہزادی کی ایک اردو غزل

یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں
اسے معافی سمجھ لینا انتقام نہیں

مجھے پتا ہے جو تجھ کو خدا سمجھتے ہیں
وہی ہیں جن کی خدا سے دعا سلام نہیں

مرے علاوہ کوئی میری بات سنتا نہیں
اور آج کل تو میں خود سے بھی ہم کلام نہیں

اسی لیے تو سہولت سے جل رہے ہیں چراغ
انہیں پتا ہے ہوا کا کوئی نظام نہیں

تو پھر وہ میرے لیے اہمیت نہیں رکھتا
کسی کے دل میں اگر تیرا احترام نہیں

امن شہزادی 

post bar salamurdu

امن شہزادی

امن شہزادی، نئی نسل کی ابھرتی ہوئی اور اثردار آوازوں میں سے ایک ہیں، جن کی پیدائش 13 اکتوبر 1999 کو حافظ آباد، پاکستان میں ہوئی۔ وہ اس وقت UET (یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولاجی) میں ماحولیاتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ساتھ ہی شاعری کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی شاعری، جو دل سے جڑے جذبات اور گہرائی سے بھرپور ہے، نے انہیں نوجوان ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی دلائی ہے۔ اپنے ہمعصروں سے کچھ مختلف، امن کے پاس خوبصورت خیالات اور احساسات کو کاغذ پر زندگی بخشنے کا ایک نایاب ہنر ہے، جو ان کی انفرادیت کو اجاگر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button