امن شہزادی
امن شہزادی، نئی نسل کی ابھرتی ہوئی اور اثردار آوازوں میں سے ایک ہیں، جن کی پیدائش 13 اکتوبر 1999 کو حافظ آباد، پاکستان میں ہوئی۔ وہ اس وقت UET (یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولاجی) میں ماحولیاتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ساتھ ہی شاعری کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی شاعری، جو دل سے جڑے جذبات اور گہرائی سے بھرپور ہے، نے انہیں نوجوان ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی دلائی ہے۔ اپنے ہمعصروں سے کچھ مختلف، امن کے پاس خوبصورت خیالات اور احساسات کو کاغذ پر زندگی بخشنے کا ایک نایاب ہنر ہے، جو ان کی انفرادیت کو اجاگر کرتا ہے۔
-

اچھا خواب دکھایا تم نے
امن شہزادی کی ایک اردو غزل
-

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے
امن شہزادی کی ایک اردو غزل
-

یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں
امن شہزادی کی ایک اردو غزل
-

نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں
امن شہزادی کی ایک اردو غزل
-

شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا
امن شہزادی کی ایک اردو غزل
-

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے
امن شہزادی کی ایک اردو غزل
-

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا
امن شہزادی کی ایک اردو غزل