آپ کا سلاماردو غزلیاتامن شہزادیشعر و شاعری

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے

امن شہزادی کی ایک اردو غزل

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے
گلی میں تیر برستے رہے مکانوں سے

یہ بردباری اچانک سے تھوڑی آئی ہے
کلام کرنا پڑا مجھ کو بد زبانوں سے

تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو شہزادے
یہ شال یوں ہی سرکتی رہے گی شانوں سے

ہماری راہ میں دیوار بن گئے وہ لوگ
جنہیں سنائی نہیں دے رہا تھا کانوں سے

تماشے یوں ہی نہیں کامیاب ہو جاتے
مکین کھینچ کے لائے گئے مکانوں سے

بہت سے شعر سنائے ہیں گنگنا کے مگر
یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی ترانوں سے

امن شہزادی

post bar salamurdu

امن شہزادی

امن شہزادی، نئی نسل کی ابھرتی ہوئی اور اثردار آوازوں میں سے ایک ہیں، جن کی پیدائش 13 اکتوبر 1999 کو حافظ آباد، پاکستان میں ہوئی۔ وہ اس وقت UET (یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولاجی) میں ماحولیاتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ساتھ ہی شاعری کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی شاعری، جو دل سے جڑے جذبات اور گہرائی سے بھرپور ہے، نے انہیں نوجوان ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی دلائی ہے۔ اپنے ہمعصروں سے کچھ مختلف، امن کے پاس خوبصورت خیالات اور احساسات کو کاغذ پر زندگی بخشنے کا ایک نایاب ہنر ہے، جو ان کی انفرادیت کو اجاگر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button