- Advertisement -

پھول جتنا ہی کھل سکے ہم لوگ

سرفراز آرش کی ایک اردو غزل

پھول جتنا ہی کھل سکے ہم لوگ
پھول بن کر بکھر گئے ہم لوگ

یہ محبت بھی کیا عجب مے ہے
ہینگڈ اوور نہیں ہوئے ہم لوگ

تیری آنکھوں کی خیر ہو پیارے
تیرے ہوتے ہوئے بجھے ہم لوگ

اپنا ہنسنا بھی دیکھتا کوئی
جھاڑیوں میں کھلے رہے ہم لوگ

صرف مٹی سے سب نہیں بنتے
روشنی سے دیا ہوئے ہم لوگ

پھول کانٹوں میں کیا تمیز کریں
دو قدم بھی نہیں چلے ہم لوگ

شاید اس واسطے وبا آئی
جینے لائق نہیں رہے ہم لوگ

آنسو آنسو ہیں سب کے سانجھے ہیں
بارشوں میں نہیں ہنسے ہم لوگ

اس نے یوں ہی ادھر کو دیکھ لیا
تیز ہوتے ہوئے تھمے ہم لوگ

ساتھ چلنے کو یوں نہ کہہ ہم سے
چل پڑیں گے کھڑے کھڑے ہم لوگ

دھوپ دینے کے دن ہی آ نہ سکے
گٹھریوں میں بندھے رہے ہم لوگ

اب ستائش کی کس کو خواہش ہے
اب تو جوتے پہن چکے ہم لوگ

عمر بھر منفرد رہے آرش
سارا رستہ نہیں رکے ہم لوگ

سرفراز آرش 

  1. سائٹ ایڈمن کہتے ہیں

    لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
    لمحوں میں زمانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
    تُو زہر ہی دے شراب کہہ کر ساقی
    جینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اویس خالد کا ایک اردو کالم