میجر شبیر شریف شہید کا یوم شہادت اور پاکستان کی عسکری روح
آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے محض ایک تاریخی لمحہ نہیں بلکہ اپنے عظیم سپوت کے ساتھ وفا، عقیدت اور احترام کی تجدید کا دن ہے۔ میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کا یومِ شہادت ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ اس وطن کی سرزمین ایسے جانبازوں کے خون سے آباد ہے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قوم کو سربلند کیا۔ آج قوم اس درخشاں نام کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو بہادری اور ایثار کی علامت ہے۔
میجر شبیر شریف شہید اٹھائیس اپریل انیس سو تینتالیس کو گجرات کے گاؤں کنجاہ میں ایک باوقار اور سادہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ خاندان کی اخلاقی تربیت اور مضبوط اصولوں نے ان کی شخصیت میں وقار، حوصلہ اور ذمہ داری کے وہ رنگ بھرے جو آگے چل کر ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوئے۔ بچپن سے
ہی ان کی طبیعت میں نظم و ضبط اور مقصد سے وابستگی نمایاں تھی۔ یہی صفات انہیں نوجوانی میں فوج کے لیے موزوں ترین انتخاب بناتی تھیں۔
فوجی سفر کا آغاز انیس سو چونسٹھ میں ہوا جب انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے کمیشن حاصل کیا۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں اعزازی شمشیر ملنا اس بات کا اعتراف تھا کہ وہ قیادت، صلاحیت اور جذبے میں ممتاز ہیں۔ ان کے ساتھی انہیں مضبوط اعصاب، بلند حوصلے اور ذمہ داری کا پیکر سمجھتے تھے۔ وہ ہر ٹیم کے لیے ستون کی حیثیت رکھتے تھے اور یہی خداداد صلاحیتیں بعد میں میدان جنگ میں ان کی اصل قوت بنیں۔
انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں میجر شبیر شریف نے جس شجاعت کا مظاہرہ کیا وہ ان کی عملی عسکری زندگی کا پہلا روشن باب تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے جوانوں کے ساتھ سب سے آگے کھڑے ہوئے اور ہر خطرے کا مقابلہ اس اعتماد سے کیا گویا خوف نام کی کوئی شے ان کے قریب کبھی نہیں آئی۔ ان کی قیادت میں سپاہیوں کے حوصلے بلند رہتے اور میدان جنگ میں ان کی موجودگی خود ایک محرک کی حیثیت رکھتی تھی۔
انیس سو اکہتر کی جنگ ان کی زندگی کا فیصلہ کن مرحلہ تھی۔ اس جنگ کے دوران انہوں نے دشمن کی مضبوط ترین چوکیوں کو بے اثر کیا۔ دفاعی لائنیں توڑیں اور اپنے یونٹ کے لیے پیش قدمی کے راستے ہموار کیے۔ ان کی بے مثال بہادری پر انہیں ستارہ جرات سے نوازا گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقام ان اعزازات سے کہیں بلند تھا جو انہیں عطا کیے گئے۔ ان کی شخصیت اور کردار اپنی مثال آپ تھے۔
میدان جنگ میں ان کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی پسپا نہیں ہوتے تھے۔ دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے وہ ہر حد تک جانے کے لیے تیار رہتے تھے۔ دسمبر انیس سو اکہتر میں جب دشمن نے شدید حملہ کیا تو میجر شبیر شریف اپنی جمعیت کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ دشمن کی ٹینک رجمنٹ کو روکنے میں ان کا کردار فیصلہ کن تھا۔ اسی معرکے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے فرض سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہ ہٹے۔
قومی تاریخ میں نشان حیدر صرف انہی جانبازوں کو دیا جاتا ہے جو وطن کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور میجر شبیر شریف انہی روشن ستاروں میں شامل ہیں۔ پاکستان آرمی میں ان کا نام آج بھی مضبوط قیادت، اعلیٰ کردار اور بے مثال شجاعت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نوجوان افسر انہیں رول ماڈل مانتے ہیں اور ان کی جنگی حکمت عملی اور فیصلوں کو عسکری تعلیم کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
آج جب قوم ان کا یوم شہادت منا رہی ہے تو یہی پیغام ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے کہ شہدا صرف یاد رکھنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کی زندگیاں ہمارے لیے سبق اور رہنمائی کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ میجر شبیر شریف شہید کا پیغام یہی ہے کہ وطن کی حرمت ہر ذاتی خواہش اور مفاد سے بلند ہے۔ اگر ہماری نئی نسل اسی شعور اور جذبے کو اپنائے تو پاکستان ہر میدان میں ترقی کر سکتا ہے۔ ریاستیں اتحاد، نظم و ضبط اور ذمہ داری جیسے اصولوں پر قائم رہتی ہیں اور یہی اصول شہدا اپنی زندگیاں دے کر ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔
یوسف صدیقی








