خیبر پختون خوا، پاکستان کا ایک ایسا صوبہ ہے جو دہائیوں سے دہشت گردی، سیاسی اتھل پتھل اور سماجی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ پہاڑوں کی سختی، وادیاں اور سرحدی پوزیشن نے اسے نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے اہم بنایا بلکہ عسکری اور سیکیورٹی نقطہ نظر سے بھی حساس۔ اس کی سرزمین نے قربانیوں کی کہانیاں دیکھی ہیں، ہزاروں فوجی اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، مگر خطرات ہمیشہ موجود رہے۔ ہر آپریشن کے بعد سکون کی مختصر جھلک تو نظر آتی ہے، لیکن دہشت گردی کے بیج پھر اگ جاتے ہیں، اور امن مستقل طور پر قائم نہیں رہتا۔
اسی نازک صورتحال میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حال ہی میں پشاور میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہیں، اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔ ان کا یہ اعلان "اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا” محض ایک جملہ نہیں بلکہ ریاست کی پالیسی اور عزم کا پیغام ہے۔
یہ بات درست ہے کہ صوبہ گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ مگر اتنی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا باب بند کیوں نہیں ہوا؟ فوج کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی کمزوریاں ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔ جب دہشت گردی کے خلاف عزم سیاسی سودے بازیوں کے نیچے دب جائے تو دشمن کے لیے راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ پچھلے برس خیبر پختون خوا میں چودہ ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، اور رواں سال بھی ہزاروں کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ اعداد اس عزم کا مظہر ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں آپریشن ہو رہے ہیں تو پھر شدت پسندی کی جڑیں کیوں برقرار ہیں؟ اس سوال کا جواب شاید انہی گٹھ جوڑوں میں چھپا ہے جن کی طرف ڈی جی آئی ایس پی آر نے اشارہ کیا۔
حال ہی میں صوبے میں وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی تبدیلی اور نئی قیادت کا آنا بھی اس منظرنامے میں اہم ہے۔ سیاسی حلقے اسے ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ عمران خان نے صوبے میں آپریشن کی مخالفت کی۔ یہی سیاسی اور عسکری تناؤ ڈی جی کے بیان کو اور بھی معنی خیز بناتا ہے۔
سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ کا مطلب محض سیاسی پشت پناہی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ خاموش رضامندی، مفاداتی چشم پوشی یا موقع پرستی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں دہشت گرد گروہ کو یہ یقین ہو کہ کوئی سیاسی قوت یا انتظامی اہلکار ان پر ہاتھ نہیں ڈالے گا، تو وہ دوبارہ طاقت پکڑ لیتے ہیں۔ یہی وہ اسپیس ہے جس کا ذکر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسپیس کس نے دی، کیوں دی، اور کیا اب اسے ختم کرنے کا وقت واقعی آ گیا ہے؟
ریاستی پالیسی کے اعتبار سے یہ بیان ایک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں ضرور حاصل ہوئیں، مگر ان کامیابیوں کو پائیدار بنانے میں سیاسی اختلافات آڑے آئے۔ ایک طرف فوج نے قربانیاں دیں، دوسری طرف سیاسی سطح پر اتفاقِ رائے کمزور پڑا۔ اسی کمی نے دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔ اگر اب بھی یہی روش برقرار رہی تو امن محض وقتی ثابت ہوگا۔
دہشت گردی کا خاتمہ صرف گولی یا طاقت سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے عدالتی نظام کو مضبوط، پولیس کو وسائل سے لیس اور سیاسی عزم کو غیر متزلزل بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کے سہولت کاروں کو پکڑنے کے لیے مؤثر قانون سازی اور شفاف عدالتی عمل ناگزیر ہے۔ اگر کسی جماعت یا شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اسے سیاسی انتقام کے بجائے قانونی شواہد سے نمٹایا جائے۔ یہ معاملہ سیاست سے زیادہ ریاستی سلامتی کا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔ یہ ایک اعلانِ جنگ ہے ان عناصر کے خلاف جو پاکستان کی جڑوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ اعلان تبھی مؤثر ہوگا جب اس کے ساتھ سیاسی استحکام اور قومی اتفاقِ رائے بھی موجود ہو۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ فوجی بیانات کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے۔ اگر سیاست دان انہیں اپنے مفاد کے مطابق استعمال کرنے لگے تو قومی یکجہتی متاثر ہوگی۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی حکمتِ عملی کی ہے جو فوج، عدلیہ، حکومت اور اپوزیشن سب کو ایک صفحے پر لے آئے۔ نیشنل ایکشن پلان پر بلا امتیاز عمل درآمد اس کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خیبر پختون خوا کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے گھروں، بازاروں اور سکولوں پر حملے ہوئے، ان کی معیشت برباد ہوئی، اور ان کے بچوں کے خواب چکناچور ہوئے۔ یہ صوبہ قربانی کی علامت بن چکا ہے۔ لہٰذا اب اگر ریاست ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کھڑی ہوئی ہے تو اس عزم کو زبانی نہیں بلکہ عملی ہونا چاہیے۔
میرے خیال میں "اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا” کوئی عام فقرہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے ۔۔ ریاست کے عزم، اداروں کی سنجیدگی اور عوام کی امید کا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مصلحتوں اور تاخیر کی سیاست ختم ہو۔ اگر سیاسی قیادت، عدلیہ اور فوج واقعی ایک صفحے پر آ جائیں اور یہ طے کر لیں کہ دہشت گردی کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی، تو ہم اپنے شہیدوں کے خواب پورے کر سکتے ہیں۔ ورنہ یہ جملہ بھی محض خبروں کا حصہ بن کر رہ جائے گا، اور قوم ایک بار پھر مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی۔
یوسف صدیقی








