آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

جن کو جینے کا سلیقہ

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

جن کو جینے کا سلیقہ ہو وہ جی لیتے ہیں
درد سہہ جاتے ہیں اور اشک بھی پی لیتے ہیں

کم وسائل میں گذارا بھی ہنر ہے صاحب
ہم تو اک خواب کو اک عمر بھی جی لیتے ہیں

پوریں زخمی ہی سہی ہاتھ دریدہ ہوں بھلے
زخم دو چار تو ہرحال میں سی لیتے ہیں

تیرے اک اشک میں بہہ جاتے ہیں تنکوں کی طرح
ہم سمندر بھی جو دریاؤں کو پی لیتے ہیں

ہم کسی بات پہ اے کاش نہیں کہہ سکتے
لوگ اس لفظ کا مفہوم کمی لیتے ہیں

ہم وہ تاجر ہیں ترے درد خریدیں گے سبھی
غم اٹھائیں بھی تو بدلے میں خوشی لیتے ہیں

زندگی تلخ سہی ، خواب پریشاں سب کے
لطف سانسوں کا بہر حال سبھی لیتے ہیں

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button