آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون

ہٙواوں میں دِیا جلتا ہُوا ہُوں

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

ہٙواوں میں دِیا جلتا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
بچھڑ کے تجھ سے کچھ ایسا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے

میں اپنے آپ کو آخر مناوں تو بھلا کیسے ؟
میں اپنے آپ سے رُوٹھا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے

بچھڑنا جس سے لمحہ بھر اذیّت تھی قیامت کی
اُسی محبوب سے بِچھڑا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے

ذرا سی ٹٙھیس لگنے پر بکھر جاوں گا ٹکڑوں میں
میں شیشے کی طرح چٙٹخا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے

فراقِ یار سے کہہ دو کہ اب تو جان بخشی ہو
وصالِ یار کو ترسا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے

مجھے دنیا میں کیوں بھیجا، مجھے دنیا سے کیا لینا ؟
اِنہی سوچوں میں گُم بیٹھا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے

عُظمی جٙون

post bar salamurdu

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button