آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون
ہٙواوں میں دِیا جلتا ہُوا ہُوں
ایک اردو غزل از عُظمی جٙون
ہٙواوں میں دِیا جلتا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
بچھڑ کے تجھ سے کچھ ایسا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
میں اپنے آپ کو آخر مناوں تو بھلا کیسے ؟
میں اپنے آپ سے رُوٹھا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
بچھڑنا جس سے لمحہ بھر اذیّت تھی قیامت کی
اُسی محبوب سے بِچھڑا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
ذرا سی ٹٙھیس لگنے پر بکھر جاوں گا ٹکڑوں میں
میں شیشے کی طرح چٙٹخا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
فراقِ یار سے کہہ دو کہ اب تو جان بخشی ہو
وصالِ یار کو ترسا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
مجھے دنیا میں کیوں بھیجا، مجھے دنیا سے کیا لینا ؟
اِنہی سوچوں میں گُم بیٹھا ہُوا ہُوں ایک مُدّت سے
عُظمی جٙون








