آپ کا سلاماختصاریئےاردو تحاریرصنم فاروق حسین

زندگی

ایک اردو تحریر از صنم فاروق

ذندگی
میں سوچ رہی ھوں اک کہانی لکھوں۔
کہانی ؟ زندگی کے بارے میں۔
کیا لکھوں گی۔
ذندگی کیا ھوتی ھے۔؟
کیا ھوتی ھے ذندگی ؟ اک کہانی
نہی ذندگی کہانی تو نہی ھوتی
تو کیا ھوتی ھے؟
ذندگی
یہ اک حاصل لا حاصل کے درمیان اک جستجو ھے۔
یہ خواہشات کا ٹھاٹھے مارتا سمندر ھے۔یہ وہ صحرا ھے جہاں دور دور تک صرف خالی میدان ھے اور ہم بھٹکے ھوۓ راہی ذندگی وہ خالی برتن ھے جو شور بہت کرتا ھے۔مگر خالی ذندگی ہوا ھے جو آہستہ چلے تو خوشگوار سخت گرمی میں چلے تو پڑسکوں اور حد سے تجاوز کر جاۓ تو تباہ کو طوفاں بلکل ہماری بیجا خواہشات کی طرح
تمہیں پتہ۔ذندگی مخلص نہی ھوتی یہ دھوکے باز ھے۔کب کہاں کس موڑ پر خود کو بدل لے بچھڑ جاۓ کچھ پتہ نہی یہ بےاعتبار ھے۔یہ بہت خوبصورت نظر آنے والی زندگی اندھیروں میں اتنی ہی بھیانک ھوتی ھے۔کہ انساں کو اگر معلوم۔پر جاۓ تو وہ کبھی اس سے محبت نہ کرے
یہ موت کی ساتھی ھے آخر میں یہ ھمیں موت کو تھما دیتی ھے اور تب ہماری سب خواہشات ۔خواب ۔جستجو ۔تجسس۔سب اس ٹھاٹھے مارتے سمندر میں اس بھٹکتے ریگستان میں اس طوفان میں غرق ہو جاتا ھے ہمیشہ کے لیے ختم ھو جاتا ھے۔
پھر ہمارے پاس کحھ نہی بچتا۔سواۓ پیشیمانی کے اور پتہ موت ذندگی سے بھی زیادہ سخت ھے یہ اس سب چیزوں کا۔حساب لیتی ھے جو ہم ذندگی میں کرتے ہیں۔گناہوں کا حساب۔دوسروں کے ساتھ بداخلاقی کا حساب۔عبادتوں میں لاپرواہی کا حساب۔حقوق اللہ و حقوق العباد میں غفلت کا حساب ۔اور پھر یہ بتاتی ھے اصل ذندگی کا مطلب انسان سمجھتا ھے کہ یہ ذندگی مہربان ھے ۔یہ نعمت ھے اللہ کی مگر تب جب انسان خود کو اللہ کے بتاۓ ھوۓ راستے پر چل کر اسے گزاریں۔ورنہ یہ اک سخت ترین آزمائش ھے ۔یہ تو مسافر خانہ ھے جہاں ہم تھوڑی دیر قیام کرتے ہیں ۔اسکی روشنیوں میں شوروغل میں۔خوبصورتی میں کھو جاتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں اصل منزل تو موت کی طرف ھے جو اصل خقیقت ھے۔کب کہاں کیسے کیوں أجاۓ کچھ معلوم نہی ۔
اسلیے ذندگی اور موت کی کشمکش میں مت الجھو بس اسکو گزارو اور آگے کے لیے بہتر۔انتظام کا سوچوں ۔چار دن کی ذندگی کے بعد ھمیشہ رہنے والی موت ھے۔وہی اصل ذندگی ھے۔
انسان اک اک سانس کا مختاج ھے اور ارادے سو سال کے ۔
یہی خقیقت ھے جس کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔کہ کل دیکھا جاۓ گا۔
پر کل کس نے دیکھا ھے۔

صنم فاروق

post bar salamurdu

عائشہ فاروق حسین

وابستہ ہے رب سے ذات ھماری ھماری روح کا جو سکون ھے۔ ذکر الہی کرنے میں رہنے والوں کا صنم رب سے الگ ہی عشقِ جنون ھے۔ رقیب تحریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button