آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاک افغان تعلقات

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاک افغان تعلقات: مشکلات، غلط فہمیاں اور بہتری کی راہیں

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ پچھتر برسوں سے نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک جغرافیائی، تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جُڑے ہوئے ہیں، مگر سیاسی حالات اور باہمی بداعتمادی نے ان تعلقات کو کبھی بھی ایک مستقل مثبت سمت نہیں دی۔ ایک طرف عوامی سطح پر بھائی چارے اور مہاجرین کی میزبانی کی داستانیں ہیں تو دوسری طرف سرحدی جھڑپیں، دہشت گردی اور الزام تراشی کی تلخیاں بھی موجود ہیں۔ یہی دوہرا پن پاک افغان تعلقات کو سب سے زیادہ پیچیدہ اور حساس بناتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد افغانستان وہ پہلا اور واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔ اس کی بڑی وجہ ڈیورنڈ لائن کا تنازع تھا جسے بعض افغان حکمران آج بھی تنازع کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ بعد ازاں افغان جہاد کے دوران پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر افغانستان کی جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں مگر ان کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہی رہا۔

گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے اس خلیج کو مزید وسیع کیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ ہے اور وہ پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں فوجی اور شہری ان حملوں کا نشانہ بنے۔ اس کے جواب میں افغانستان نے اکثر پاکستان پر اپنی سیاست میں مداخلت اور عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کے الزامات لگائے۔ یوں تعلقات ہمیشہ شک و شبہات اور بداعتمادی کی نذر ہوتے رہے۔

افغانستان کے اندرونی حالات بھی اس کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔ وہاں تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کی کمی نے معاشرت کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ طالبان کی سخت گیر حکمرانی نے خواتین اور نوجوانوں کے حقوق محدود کر دیے ہیں، جس سے عالمی برادری سمیت پاکستان کو بھی تشویش ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی بعض مذہبی و سیاسی جماعتیں اپنے محدود مفادات کے لیے افغان گروہوں کو مثبت انداز میں پیش کرتی ہیں جو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی پاک افغان تعلقات میں اہم ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اب یہ مسئلہ معاشی دباؤ، جرائم اور سلامتی کے خدشات کی وجہ سے حساس تر ہو گیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے مہاجرین کی میزبانی کر کے انسانیت کی عظیم خدمت کی، مگر اب ضرورت ہے کہ اس مسئلے کا مستقل اور باعزت حل نکالا جائے۔

ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ تعلقات کو صرف ماضی کی تلخیوں کی بنیاد پر نہیں جانچا جا سکتا۔ اگر دونوں ممالک مستقبل کی طرف دیکھیں اور عملی اقدامات کریں تو ایک ایسا راستہ نکل سکتا ہے جو نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے امن اور ترقی کا باعث ہو۔

پاک افغان تعلقات بہتر بنانے کے لیے جامع تجاویز

1. سرحدی سلامتی اور نگرانی
پاک افغان سرحد پر مؤثر نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ چوکیاں اور انٹیلی جنس کا تبادلہ ناگزیر ہے۔ اگر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جائے تو دونوں ممالک کے عوام کو براہِ راست امن مل سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ملکوں کو باہمی تعاون کے ساتھ مشترکہ میکنزم تشکیل دینا ہوگا۔

2. مسلسل سیاسی و سفارتی مکالمہ
الزام تراشی کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان مستقل بنیادوں پر سیاسی مذاکرات ضروری ہیں۔ اگر کابل اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست اور باقاعدہ مکالمہ جاری رہے تو غلط فہمیاں کم ہوں گی۔ اس سلسلے میں او آئی سی اور اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارمز کو بھی ثالثی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

3. اقتصادی تعاون اور تجارت
سرحد کے دونوں طرف غربت اور بے روزگاری دہشت گردی کو ہوا دیتی ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان اقتصادی تعاون کو فروغ دیں، ٹرانزٹ ٹریڈ کے راستے آسان بنائیں اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں تو یہ عوام کو روزگار اور ترقی دے گا۔ معاشی انحصار دشمنی کو کم اور تعاون کو زیادہ کرتا ہے۔

4. تعلیمی و ثقافتی روابط
طالبان حکومت کے باعث افغان نوجوانوں کے تعلیمی مواقع محدود ہیں۔ پاکستان تعلیمی وظائف، ایکسچینج پروگرامز اور مشترکہ تعلیمی منصوبوں کے ذریعے افغان طلبہ کو سہولت دے سکتا ہے۔ اسی طرح کھیلوں، ثقافتی میلوں اور فنونِ لطیفہ کے تبادلوں سے عوامی سطح پر تعلقات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

5. مہاجرین کے مسئلے کا باعزت حل
پاکستان نے چار دہائیوں تک افغان مہاجرین کو سہارا دیا۔ اب ضرورت ہے کہ عالمی برادری کی مدد سے ان کی باعزت واپسی کا انتظام کیا جائے۔ اس عمل میں افغان حکومت کو بھی ذمہ داری لینا ہوگی تاکہ مہاجرین اپنے وطن جا کر ترقی میں حصہ لے سکیں۔

6. دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی
پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ اگر دونوں ممالک اس مسئلے کو مشترکہ خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف متحد ہو جائیں تو کامیابی ممکن ہے۔ اس کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ آپریشنز اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات ضروری ہیں۔

7. اعتماد سازی کے اقدامات
چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات جیسے تعلیمی ویزوں میں آسانی، تجارتی میلوں کا انعقاد، میڈیا کے وفود کا تبادلہ اور کھیلوں کے مقابلے، عوامی سطح پر اعتماد کو بڑھا سکتے ہیں۔ جب عوامی سطح پر تعلقات بہتر ہوں گے تو حکومتوں پر بھی مثبت دباؤ بڑھے گا۔

حرفِ آخر

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات صرف ایک دوسرے کے خلاف بیانات یا وقتی تعاون تک محدود نہیں رہ سکتے۔ اگر یہ دونوں ممالک اپنی پالیسیوں کو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کے تناظر میں ترتیب دیں تو خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، مگر ساتھ ہی تعمیری اور مثبت تعلقات کے لیے کوششیں بھی ترک نہیں کرنی چاہئیں۔ اسی طرح افغانستان کو بھی اپنی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال سے پاک کرنی ہوگی۔

حقیقی تعلقات اسی وقت ممکن ہیں جب دونوں ممالک ماضی کے بوجھ کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل کے امکانات پر توجہ دیں۔ امن، تجارت، تعلیم اور عوامی روابط وہ راستے ہیں جو پاک افغان تعلقات کو دشمنی سے دوستی اور شکوک سے اعتماد کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button