نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
اسلام، قرآن مجید، اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات نے نہ صرف دور قدیم کے حالات کو بیان کیا بلکہ آنے والے ادوار کی پیشگوئیاں بھی کیں، جو آج ہمارے سامنے واضح ہو رہی ہیں۔ مثلاً **أَقِيمُوا الصَّلَاةَ** سے لے کر ساریہ جبل، ابابیل، اور مسجد نبوی کے واقعات تک—اس بات کی شاندار عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام ایک عالمگیر اور لازوال دین ہے، جو ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آئیے ان نکات کو ایک ایک کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں آج کے دور میں کیسے ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
1. **أَقِيمُوا الصَّلَاةَ اور چیزوں کے قائم ہونے کا دور**
**”أَقِيمُوا الصَّلَاةَ”** (سورۃ البقرہ: 43، وغیرہ) نہ صرف نماز کی ادائیگی کی ہدایت ہے بلکہ ایک منظم اور مستحکم نظام کے قیام کی طرف اشارہ ہے۔ لفظ "أَقِيمُوا” سے استحکام، پابندی، اور نظام کی بات سامنے آتی ہے۔ آج کے دور میں ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں چیزیں "قائم” ہو چکی ہیں—حکومتیں، میڈیا، ٹیکنالوجی، اور معلوماتی نظام ایک خودمختار ڈھانچے پر چل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آج کے دور میں فلمیں اور ڈرامے بھی اپنے اندر ایک تعلیمی وفکری ذریعہ پناہ رکھتے ہیں ۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جیسے جھوٹ اور باطل نے اپنا نظام قائم کیا، لیکن آنے والے دور میں حق کا نظام بھی قائم ہونے والا ہے۔ آج کے دور میں یہ نظام ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں (نماز، اخلاق، ایمانداری)، اپنے خاندانوں میں، اور معاشرے میں حق پر مبنی اقدار کو فروغ دے کر قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ پیشگوئی ہمیں خبردار کرتی ہے کہ جھوٹ کے قائم کردہ نظام کا مقابلہ صرف ایک مضبوط، منظم، اور حق پر مبنی نظام سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
2. ساریہ جبل کا واقعہ اور سنٹرل کمانڈ کی پیشگوئی
ساریہ جبل کا واقعہ (جو صحیح بخاری اور مسلم میں مذکور ہے) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں جمعہ کے خطبہ پر منبر پر تھے کہ اچانک بلند آواز سے تین بار فرمایا: "یا ساریۃ الجبل” (اے ساریہ! پہاڑ کی طرف، پہاڑ!)۔ حاضرین حیران ہوئے۔
کچھ دن بعد جب لشکر کا قاصد آیا تو اس نے بتایا کہ ہم دشمن سے شکست کھا رہے تھے، اچانک ایک آواز آئی: "یا ساریۃ الجبل” (تین بار)، تو ہم نے پیٹھ پہاڑ سے لگا لی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی۔ لوگوں نے حضرت عمر سے کہا کہ یہ آپ کی آواز تھی۔ بلاشبہ یہ اللہ کی طرف سے ایک مدد و کرامت تھی ۔
ہم اسے جدید دور کی "سنٹرل کمانڈ” سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں جو ایک بہت گہری بصیرت فراہم کرتی ہے۔ آج کے دور میں جنگیں سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (C2) پر منحصر ہیں، جہاں کمانڈر ہزاروں میل دور بیٹھ کر فوج کو ہدایات دیتا ہے، اور ریئل ٹائم مواصلات (جیسے سیٹلائٹ، ریڈیو، یا انٹرنیٹ) اسے ممکن بناتے ہیں۔ ساریہ جبل کا واقعہ اس بات کی پیشگوئی ہے کہ مستقبل میں مواصلات اور کمانڈ کا نظام کتنا اہم ہوگا۔ یہ معجزہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی مدد اور اس کے نبی ﷺ کی رہنمائی ہر دور میں مومنوں کے لیے موجود ہے، چاہے وہ کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں۔
اس سے ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ آج ہمیں ٹیکنالوجی اور مواصلات کے نظام کو حق کی ترویج کے لیے استعمال کرنا چاہیے، جیسے کہ سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز، یا دیگر ذرائع سے سچائی کو پھیلانا۔
3. ابابیل کا واقعہ اور ڈرون کی پیشگوئی
سورۃ الفیل میں ابابیل کے واقعے کا ذکر ہے، جہاں اللہ نے ابراہہ کے لشکر کو پرندوں کے غول کے ذریعے تباہ کیا، جو اپنی چونچوں میں کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ ہم اسے جدید دور کے ڈرونز سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں، جو ایک نہایت دلچسپ اور بصیرت افروز موازنہ ہے۔ ڈرونز آج کی جنگی ٹیکنالوجی کا اہم حصہ ہیں، جو ہوا سے درست نشانے پر حملہ کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ابابیل نے کنکریوں سے ابراہہ کے لشکر کو نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ ہمیں دو اہم باتیں سکھاتا ہے:
اللہ کی قدرت: اللہ جب چاہے، اپنی مخلوق (چاہے وہ پرندے ہوں یا جدید ٹیکنالوجی) کو حق کی حفاظت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ آج کے ڈرونز اس کی ایک علامت ہیں کہ ٹیکنالوجی خود بخود نہ اچھی ہے نہ بری—اس کا انحصار اس کے استعمال پر ہے۔
حق کی حفاظت : جیسے اللہ نے کعبہ کی حفاظت کی،اسی طرح وہ ہر دور میں حق کی حفاظت کرتا ہے۔لیکن یہ نصرت مسلمانوں کی قابلیت اور اخلاص سے جڑی ہے نہ کہ جذبات سے ، آج ہمیں اس یقین کو مضبوط کرنا ہے کہ جھوٹ کا نظام کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو (جیسے ڈرونز، مصنوعی ذہانت، یا میڈیا)، اللہ کی مدد سے حق غالب آئے گا۔ لیکن علم کا استعمال اور ترویج مسلمانوں پر لازم و ملزوم ہے۔
4. مسجد نبوی میں جنگی حالات بیان کرنا اور اسکرین کے دور کی پیشگوئی**:
نبی کریم ﷺ کا مسجد نبوی میں بیٹھ کر جنگی حالات بیان کرنا (جیسے کہ جنگ موتہ یا دیگر غزوات کے دوران)، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے، ایک عظیم معجزہ تھا۔ آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے ایسی بصیرت عطا کی گئی کہ آپ دور دراز کے حالات کو دیکھ اور بیان کر سکتے تھے۔ ہم اسے اسکرین کے دور سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں ۔
آج ہم ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، اور لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے ہزاروں میل دور کے واقعات کو ریئل ٹائم میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انسان اپنے علم اور بصیرت سے حاصل کرسکتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نبیوں کے معجزے سے حق پر قائم معاشرے کی مدد و نصرت فرماتے ہیں اسی طرح ٹیکنالوجی انسان کی کوشش ہے مگر اللہ کی مدد اس میں شامل حال ہے ۔ لیکن فرق یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی یہ صلاحیت اللہ کی راست عطا کردہ تھی، جبکہ آج کی ٹیکنالوجی انسان کی بنائی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ﴿٣٩﴾
(سورۃ النجم، آیت 39)
"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔” اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی مدد اس کے قرب اور خوشنودی سے حاصل ہوتی ہے اور دوسرا اس کے ساتھ ساتھ خود انسانی جہد اور کوشش بھی اس کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے ۔
اس سے ہمیں سبق یہ ملتا ہے کہ:
ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال: اسکرین کا یہ دور ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم حق کو پھیلائیں، جیسے کہ دینی تعلیمات، قرآن کی تفسیر، یا سچائی پر مبنی مواد کو آن لائن شیئر کرنا۔
جھوٹ سے بچاؤ: اج اسکرین کا یہی دور جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ہمیں تنقیدی سوچ (critical thinking) اپنانا ہوگا اور ہر چیز کی تصدیق کرنی ہوگی۔ہم اسے نیک مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرسکتے ہیں ۔
غار ثور کے تناظر میں:
غار ثور کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب جھوٹ اور باطل اپنی پوری طاقت سے حق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، تب اللہ کی مدد اور بندے کی استقامت سے حق غالب آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ پیشگوئیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ نے اپنے دین میں ہر دور کے لیے رہنمائی دی ہے۔ آج کے جھوٹ کے قائم کردہ نظام (جیسے میڈیا، پروپیگنڈا، یا جدید ٹیکنالوجی) کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں وہی اصول اپنانے ہوں گے جو غار ثور میں نبی کریم ﷺ نے اپنائے: یعنی کوشش، تدبیر اور استقامت
کوشش اور تدبیر: نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے دوران ہر ممکن تدبیر اختیار کی، جیسے راستہ بدلنا اور غار میں پناہ لینا۔ آج ہمیں بھی اپنی بساط کے مطابق تدبیر کرنی ہے، جیسے ٹیکنالوجی کو سچائی کے لیے استعمال کرنا۔
اللہ پر بھروسہ: جیسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا "لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا” ہمیں بھی اس یقین کو مضبوط کرنا ہے کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔ استقامت: چاہے جھوٹ کا نظام کتنا ہی مضبوط ہو، ہمیں حق کی راہ پر ثابت قدم رہنا ہے۔
عملی اطلاق آج کے دور میں:
پیش کردہ پیشگوئیوں کے تناظر میں، ہم آج یہ کر سکتے ہیں:
1. نظام قائم کریں : اپنی زندگیوں میں حق پر مبنی نظام کو مضبوط کریں، جیسے کہ نماز، زکوٰة، اور اخلاقی اقدار کی پابندی۔ یہ "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ” کا عملی اطلاق ہے۔
2. ٹیکنالوجی کا استعمال: ساریہ جبل اور ابابیل کے واقعات سے سبق لیتے ہوئے، جدید ٹیکنالوجی (جیسے ڈرونز، انٹرنیٹ، یا اسکرینز) کو حق کی ترویج کے لیے استعمال کریں۔ مثال کے طور پر، یوٹیوب یا سوشل میڈیا پر دینی پیغامات پھیلائیں۔
3. جھوٹ کا مقابلہ: اسکرین کے دور میں جھوٹ اور پروپیگنڈا کی شناخت کریں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ حقائق کی تصدیق کریں اور لوگوں کو میڈیا لٹریسی سکھائیں۔
4. دعا اور تیاری : اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمیں جھوٹ کے فتنوں سے بچائے اور اپنی نئی نسلوں کو زندگی کا مقصد فراہم کریں ، انہیں بےراہ روی سے بچائیں ۔ اور انہیں حق کا داعی و مجاہد بنائیں ۔
آپ کا بھائی
محمد حجازی








